ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کانگریس مسلم قیادت کے اتحاد کا مظاہرہ ،مسلمانوں کونظر انداز نہ کیا جائے، بنگلورو میں اہم مشاورتی اجلاس ۔ریاست بھر سے مسلم نمائندوں کی شرکت

کانگریس مسلم قیادت کے اتحاد کا مظاہرہ ،مسلمانوں کونظر انداز نہ کیا جائے، بنگلورو میں اہم مشاورتی اجلاس ۔ریاست بھر سے مسلم نمائندوں کی شرکت

Sun, 03 Feb 2019 12:40:54    S.O. News Service

بنگلورو3 فروری(ایس او  نیوز) لوک سبھا انتخابات سے قریب آج کانگریس پارٹی کی ریاستی مسلم قیادت نے متحد ہوکر مسلم کارکنوں اور عمائدین کا اجلاس طلب کرنے کے ذریعے کانگریس کے روبرو اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے علاوہ لوک سبھا انتخابات میں چار حلقوں بنگلورو سنٹرل، ہاویری، بیدر اور میسور میں مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دینے کا مطالبہ کیا۔

بنگلورو شہر کے ایک ستارہ ہوٹل میں صبح سے سہ پہر تک ریاست بھر سے آئے ہوئے پارٹی کے ضلعی لیڈروں اور کارکنوں سے ان کے مسائل سننے کے بعد انہیں یقین دہانی بھی کرائی کہ وہ ان کے احساسات اور جذبات کانگریس ہائی کمانڈ تک پہنچائیں گے۔ یکے بعد دیگرے چھ نشستوں میں الگ الگ معاملوں پر تبادلۂ خیال بھی ہوا، اور پوری مسلم قیادت نے عوام کے مسائل سنجیدگی سے سنے۔ رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر سید ناصر حسین نے ابتدا میں اجلاس کے اغراض و مقاصد بیان کئے، جس کے بعد سابق وزیر تنویر سیٹھ کی صدارت میں دوسری نشست کے دوران اقلیتی بہبود کی اسکیموں پر تبادلۂ خیال ہوا۔ تیسری نشست سینئر رہنما آر روشن بیگ کی صدارت میں منعقد ہوئی، جس میں سرکاری اسکیموں، نظم و نسق کی صورتحال، مسلم قیادت اور دیگر مسائل پر بامقصد گفتگو ہوئی۔ مستقبل کی حکمت عملی سے متعلق اے آئی سی سی سکریٹری سلیم احمد کی صدارت میں چوتھی نشست کا انعقاد عمل میں آیا۔ پانچویں نشست میں رکن کونسل و سابق مرکزی وزیر سی یم ابراہیم نے خطاب کیا اور کے پی سی سی پبلیسٹی کمیٹی کے چیئرمین نامزد ہونے پر مسلم قائدین نے سی یم ابراہیم کو تہنیت پیش کی۔

ریاست بھر سے آئے ہوئے کارکن اپنے علاقوں کے علاوہ خصوصی طور پر اقلیتوں کے مسائل پیش کئے اور مسلم وزراء کی غیر حاضری پر شدیدبرہمی کا اظہار کیا۔ جو اپنے طئے شدہ پروگراموں کے سبب اجلاس میں شریک نہ ہوسکے تھے، اور ہوئے بھی تو چند گھنٹوں بعد رخصت ہوگئے۔ انتخابات کے بعد جس طرح کانگریس مسلمانوں سے بے رخی اختیار کرلیتی ہے، حاضرین نے اس پر ناراضی کا اظہار کیا، اور یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ صرف اور صرف ملک کو بچانے اور جمہوریت و دستور کے تحفظ کے لئے کانگریس کی حمایت کی جاتی ہے، یہ ہماری مجبوری نہیں ہے۔ اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد مسلم نائب وزیر اعلیٰ کے مطالبے کو نظر انداز کئے جانے پر بھی حاضرین نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان اس ریاست کی دوسری بڑی آبادی ہیں اور انہوں نے اس مرتبہ مکمل طور پر کانگریس پارٹی کی حمایت کی تھی، اتنی بڑی آبادی کو اقتدار میں حصہ داری دینا کوئی بھیک نہیں ہے،، بلکہ یہ ہمارا حق ہے۔ تقریباً پانچ گھنٹوں تک تبادلہ خیال کے بعد اتفاق رائے سے قرار داد منظور کی گئی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ چار لوک سبھا حلقوں سے مسلمانوں کو کانگریس ٹکٹ دیا جائے۔ 30 اہم بورڈز اور کارپوریشنوں میں مسلمانوں کوبھی عہدے دیئے جائیں، بنگلورو کا اگلامئیر مسلمان ہونا چاہئے۔ وزیر اعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام پر سختی سے عمل ہو، ریاستی بجٹ میں اقلیتی بہبود کے لئے فنڈ میں اضافے کے ساتھ نئی اسکیموں کو متعارف کیا جائے۔ بلدی اداروں،پنچایتوں کے علاوہ قانون ساز کونسل اور راجیہ سبھا میں مسلم نمائندگی کو یقینی بنانے کے لئے ریزرویشن لایا جائے، تمام اضلاع میں مسلم افسروں کو اہم عہدوں پر فائز کیا جائے، جن بے گناہ مسلمانوں پر مقدمے درج کئے گئے ہیں، انہیں فوراً واپس لیا جائے، سچر کمیٹی کی سفارشات پر عمل کیا جائے ، اور مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔

رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر سید ناصر حسین نے کہا کہ اس اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ مسلمانوں میں صف دوم کی قیادت کو ابھارا جائے، اور اس کے لئے بھی ابھی سے منصوبہ بند طریقے سے کام ہو۔ اجلاس میں سابق مرکزی وزیر کے رحمن خان، وزیر برائے اقلیتی بہبود ضمیر احمد خان، رکن کونسل و پارلیمنٹ سکریٹری عبدالجبار، کے پی سی سی جنرل سکریٹری عبید اللہ شریف، اراکین کونسل نصیر احمد، رضوان ارشد، سابق وزیر نثار احمد، کے پی سی سی شعبہ اقلیت کے سکریٹری وائی سعید احمد، سابق رکن اسمبلی مقبول احمد باغوان، سابق رکن پارلیمان آئی جی سندی، بی بی یم پی حکمراں پارٹی کے لیڈر عبدالواجد، وظیفہ یاب آئی اے ایس افسر و کانگریس لیڈر ضمیر پاشاہ کے علاوہ کئی کانگریس قائدین اور تمام اضلاع سے آئے ہوئے مسلم نمائندے شریک رہے۔ بی بی یم پی رولنگ پارٹی لیڈر نامزد ہونے پر عبدالواجد کو تہنیت پیش کی گئی۔


Share: